105

ذیا بیطس کوریشے دارغذاؤں کی مدد سے قابو کرنا ممکن

نیو جرسی: جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ریشے دارخوراک اور آنتوں کے مفید بیکٹیریاز ذیابیطس کی قسم دوم کے مریضوں میں شوگرکی سطح کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

امریکن روٹگیرز یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق ریشے دار غذائیں اور معدہ و آنتوں کے لیے مفید بیکٹیریاز ذیابیطس کے ٹائپ ٹو مریضوں میں نہ صرف خون میں شکر کی مقدار کو مقررہ حد تک رکھنے میں کار گر ثابت ہوتے ہیں بلکہ یہ تیزی سے وزن کم کرنے اور خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو بھی قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ذیابیطس کے قسم دوم کے مریضوں میں نظام ہاضمہ مکمل طور پر متحرک نہیں رہتا جس کی وجہ سے کاربوہائیڈریٹ اور چکنائی (چربی) مکمل طور پر ہضم نہیں ہوپاتی جس کے باعث خون میں بالترتیب شوگر اور چربی کی مقدار (کولیسٹرول) میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ معدہ اور آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریازکا غیر فعال ہوجانا ہے، یہ مفید بیکٹیریاز پروٹین کے علاوہ چکنائی اور لحمیات کو قابل ہضم بناتے ہیں اور اضافی مقدار کے جسم سے باہر اخراج کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
روٹگیرز یونیورسٹی امریکا کے پروفیسر لائپنگ زُہاؤ نے اسی نکتے کو مرکز تحقیق بنا کر 10 ہزار سے زائد افراد میں معدے اور آنتوں کے مفید بیکٹیریاز کو فعال اور متحرک بنانے کے لیے مریضوں کے ایک گروپ کو ہائی فائبر غذا دینا شروع کیں جب کہ دوسرے گروپ کو معمول کی ڈائٹ پر رکھا گیا۔ محض 12 ہفتے میں ہی دیکھنے میں آیا کہ ریشے دار غذائیں کھانے والے گروپ کے مریضوں میں تین ماہ کا شوگر لیول (HbA1C) کم ہوگیا جب کہ لحمیات، نشاستہ اور چکنائی کا ہاضمہ بہتر ہونے سے خون میں شوگر اور چکنائی کا لیول بھی کنٹرول میں آگیا۔

لائپنگ زُہاؤ نے اپنی تحقیق میں مزید بتایا کہ معدہ اور آنتوں میں فیٹی ایسڈ مختصر چین بنالیتے ہیں جو معدے اور آنتوں کی زیریں جھلی کو مضبوط بنانے، سوزش میں کمی اور بھوک میں کنٹرول کا سبب بنتے ہیں جب کہ مفید بیکٹیریاز متحرک ہو کر شوگر اور چربی کو ہضم کرکے اسے قابل استعمال بناتے ہیں اس طرح شوگر اور چربی کی خون میں مقدار کم ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ ذیابیطس کی قسم دوم کے مریض انسولین کے بجائے دواؤں پرانحصار کرتے ہیں کیوں کہ ذیابیطس کی قسم اول کے مقابلے میں قسم دوم کے مریضوں کا لبلبہ کسی حد انسولین بنارہا ہوتا ہے لیکن انسولین کی تعداد کم اور غیر متحرک ہوسکتی ہے جس کے باعث شوگر جسم کا حصہ بننے کے بجائے خون ہی میں گردش کرتی ہے اور خون کا ٹیسٹ کرانے پر شوگر لیول بڑھا ہوا آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں